Saudi Arabia allows on arrival entry

سعودی محکمہ شہری ہوا بازی نے تمام فضائی کمپنیوں کو تاکید کی ہے کہ جس ملک کے بھی شہری کے پاس شینگن ویزا ( یورپی یونین میں شامل ممالک)، برطانیہ یا امریکہ کا ویزا ہو اسے سعودی عرب آنے کی اجازت ہے۔ تمام قومی فضائی کمپنیاں اس کی پابندی کریں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق محکمہ شہری ہوا بازی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ہر ملک کے شہری پر نافذ ہوگا۔ اس سے کسی بھی ملک کا شہری مستثنیٰ نہیں ہوگا۔

جس ملک کے شہری کے پاس بھی مذکورہ ممالک کا تجارتی و سیاحتی ویزہ ہوگا وہ سعودی عرب آ سکے گا۔ اس کی دو شرائط ہیں۔
پہلی شرط یہ ہے کہ مذکورہ ممالک کا ویزہ سعودی ہوائی اڈے، بندرگاہ یا بری سرحدی چوکی پہنچنے پر مؤثر ہو اور سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد تک مؤثر ہو۔
دوسری شرط یہ ہے کہ مذکورہ ممالک کا ویزہ لینے والے کے پاسپورٹ پر کم از کم ایک مرتبہ اس ملک میں پہنچنے پر داخلے کی مہر لگی ہوئی ہو۔
محکمہ شہری ہوا بازی نے قومی فضائی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ مذکورہ شرائط کی پابندی کریں۔ اگر کوئی شخص مذکورہ شرائط کے ساتھ سعودی عرب آنے کاخواہش مند ہو تو اسے سعودی عرب کے سفر کی اجازت دی جائے اور مملکت پہنچتے ہی اسے داخلے کا ویزہ دے دیا جائے
محکمہ شہری ہوا بازی نے چار دسمبر 2019 کو ہدایت جاری کی تھی کہ تمام فضائی کمپنیاں امریکہ اور شینگن ویزا رکھنے والوں کو سعودی عرب سفر کا موقع فراہم کریں۔
اگر وہ سعودی عرب آنا چاہتے ہوں تو انہیں مملکت لانے سے گریز نہ کیا جائے۔ ایسے لوگوں کو کسی بھی وقت سعودی عرب لایا جا سکتا ہے بشرطیکہ یہ لوگ محکمہ شہری ہوا بازی کی شرائط پوری کر رہے ہوں۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس سعودی عرب جس نے حال ہی میں دنیا کے 49 ممالک کو اپنے ملک میں آنے اور سیرو سیاحت کے لیے سیاحتی ویزے کا آغاز کیا تھا۔
ویزے کے حصول کے لیے سیاحوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ممالک کے سعودی قونصلیٹ یا سفارتخانوں کے علاوہ ایئرپورٹ پر بھی ویزہ حاصل کر سکتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحتی ویزوں سے سعودی عرب میں روزگار کے 10 لاکھ نئے مواقع پیدا ہوں گے اور 2030ء تک 100 ملین سیاحوں کی آمد منصوبے کا حصہ ہے۔
سیاحتی ویزے کا اجرا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا ایک حصہ ہے جس کے تحت تیل کے سوا آمدنی کے دیگر ذرائع تلاش کرنا ہے۔

2 thoughts on “Saudi Arabia allows on arrival entry

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: